منگلورو:15/اکتوبر(ایس او نیوز) کونسلنگ کے ذریعے تعلیمی سیٹ دئیے جانے کے بعد بھی موڈبیدرے کی ایک کالج نے پسماندہ ذات کے ایک لڑکے کو بی ایس سی (نرسنگ) کورس میں داخلہ دینےسے انکارکئے جانے کے متعلق متعلم کے سرپرستوں نے ضلع ڈی سی اور پولس کمشنر کو اپیل سونپ کر انصاف کی مانگ کی ہے۔
چتردرگہ ضلع کے سدیشوردرگ دیہات کے مکین نرسمہیا کے بیٹے نتیش کمار این کا تعلق پسماندہ ذات سے ہے، چتردرگہ میں شعبہ سائنس میں پی یو سی دوم کی تعلیم حاصل کرنےوالے نتیش کمار کو بنگلورو کے راجیو گاندھی آروگیہ یونیورسٹی نے کونسلنگ کے ذریعے سیٹ تقسیم کی تھی ، نتیش 7اکتوبر کو کونسلنگ میں شریک ہوا تو اس کو موڈبیدرےکی ایک کالج کے لئے سیٹ دی گئی ۔ اس کے علاوہ خود یونیورسٹی کی طرف سے14اکتوبر کی دوپہر 2بجے جاری کردہ الاٹ مینٹ لسٹ میں نتیش کو مندرج کالج میں داخلہ لینے کہاگیا تھا۔ جس کے تحت نتیش کالج میں داخلہ لینے کے لئے اپنے باپ کے ساتھ متعلقہ کالج پہنچا ۔ لیکن موڈبیدرے کے کالج پرنسپال نے سیٹ دینے سے انکار کئے جانے کا نرسمہیا نے الزام لگایاہے۔
نرسمہیا اپنے بیٹے نتیش کے ساتھ ڈی سی کو اپیل سونپنے کے دوران اخبارنویسوں سے بات کرتےہوئے کہاکہ متعلقہ کالج میں جب ہم سیٹ لینے گئے تو ہماری بے عزتی کی گئی ، پسماندہ ذات سے تعلق رکھنے والے میرے بیٹے کوسیٹ منظور کی گئی ہے جس کے تحت ہمیں داخلے کی سہولت مہیا کرنےکی اپیل کی تو جواب میں پرنسپال نے کہاکہ تمہارے بیٹے کو دینے کےلئے ہمارے پا س سیٹ نہیں ہے، راجیوگاندھی یونیورسٹی سے جو سیٹ الاٹ ہوئی تھیں و ہ پورے پانچ سیٹ دی جاچکی ہیں۔ تو میں نے ان سے کہاکہ آپ یہی بات تحریراً دیں۔ اتنا پوچھنے پر آگ بگولہ ہوئے پرنسپال نے ’’تمہیں سیٹ نہیں دونگا، جوکرنا ہے کرلو‘‘رعب جھاڑنے کا نرسمہا نے الزام لگایا ہے۔ اپنے بیٹے کے ساتھ شام 5بجے ڈی سی دفتر اور پولس کمشنر دفتر پہنچ کر نرسمہیا نے دونوں کو اپیل سونپتے ہوئے انصاف کی مانگ کی ہے۔ اپیل سونپنے کے دوران دلت لیڈران پی ، کیشوؤ، ناگراج ایس، جئے رام وغیرہ موجود تھے۔